جنت و رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں!
حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان آتا ہے
تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ یہ بھی رمضان المبارک کی بے مثال و لا زوال
خصوصیت ہے، اس بابرکت مہینہ کا آغاز ہوتے ہی جنت و رحمت کے دروازے کھول دیئے
جاتے ہیں اور جہنم کے دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہے اور انسان کو گنا ہ پر آمادہ کرنے والے
شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ اللہ کے صالح اورا طاعت بندے رمضان میں چونکہ
طاعات وحسنات میں مشغول ہو جاتے ہیں وہ دنوں روزہ رکھ کے ذکر و تلاوت میں گزارتے ہیں
اور راتوں کا بڑا حصہ تراویح و تہجد اور دعا استغفار میں بسر کرتے ہیں اور ان کے انوار و برکات سے
متاثر ہو کر عوام مئومنین کے قلوب بھی رمضان المبارک میں عبادات اور نیکیوں کی طرف
زیادہ راغب اور بہت سے گنا ہوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں تو اسلام اور ایمان کے حلقے میں
سعادت اور تقویٰ کے اس عمومی رجحان اور نیکی اور عبادت کی اس عام فضاء کے پیدا ہو جانے
کیوجہ سے ہو تمام طبائع جن میں کچھ بھی صلاحیت ہوتی ہے۔ اللہ کی مرضیات کی جانب مائل اور
شر و خباثت سے متنفر ہو جاتی ہیں اور پھر اس ماہ مبارک میں تھوڑے سے عمل خیر کی قیمت بھی
اللہ تعالی کی جانب سے دوسرے دنو ں کی بہ نسبت بہت زیادہ بڑھادی جاتی ہے تو ان سب باتوں
کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کیلئے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے
بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین ان کو گمراہ کرنے سے عاجز اور بے بس ہو جاتے ہیں اس
تشریح کے مطابق ان تینوں باتوں یعنی جنت و رحمت کے دروازے کھل جانے ، دوزخ کے
دروازے بند ہو جانے اور شیاطین کے مقید اور بے بس کر دئیے جانے کا تعلق صرف ان اہل
ایمان سے ہے جو رمضان المبارک میں خیر وسعادت حاصل کرنے کی طرف مائل ہوتے اور
رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے مستفید ہونے ہونے کے لئے عبادات و طاعات کو اپنا شغل
بناتے ہیں ۔ read more